Posts

Showing posts from October, 2019
آج سے تین، چار دہائی پہلے ہم انسان اپنے محدود آمدنی و وسائل میں بھی اپنی طرز زندگی سے نا صرف مطمئن تھے بلکہ ہماری زندگیوں میں اطمینان و سکون تھا۔ یہ وہ وقت تھا جب ہمیں انٹرنیٹ اور کیبیل کی سہولتیں بھی میسر نا تھیں۔ گھر میں صرف ایک کمانے والا ہوتا تھا مگر پھر بھی پرسکون زندگی گزاری جاتی تھی۔ رشتہ دار و محلہ دار عزیز، اقارب ایک دوسرے کے دکھ، درد، اور خوشیوں کے دائمی ساتھی ہوتے تھے۔ محلہ میں کسی کا انتقال ہوجائے تو آس پڑوس کے لوگ ہی پیش پیش ہوتے تھے۔ میت والے گھر کو پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ کس نے کب جاکر قبر کا انتظام کروا دیا اور کس نے کفن کا بندوبست کردیا۔ سب پلک جھکتے ہو جایا کرتا تھا۔ رشتے دار اور محلہ دار سوگواران کے لیے اپنے گھر سے کھانا پکاکر لاتے اور ان کو اپنے سامنے بیٹھا کر کھلاتے تھے۔ اور آج آزردہ سوگوار خاندان شدید کرب کی حالت میں تدفین سے قبل ہی کیٹرینگ والے کو بریانی و زردہ کی دیگ کا آرڈر دینے جاتا ہے۔ مردے کو ثواب بخشوانے کے لیے ایک قران پاک بھی مکمل کرنا مشکل ہو گیا ہے۔ احباب کی آمد مغرب کی نماز سے عین چند ساعت پہلے ہوتی ہے جب ہمارے عزیز کا کڑوا کھانا دسترخوان پر لگا د...